نئی دہلی، 24؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے شروع کیا گیا سانسد آدرش گرام منصوبہ ’ایس اے جی وائی ‘کے دوسرے مرحلے کے تحت 18کابینہ وزراء کو اب بھی اپنے اپنے حلقہ کا ایک گاؤں گود لینا ہے۔اس منصوبہ کا اعلان مودی نے یوم آزادی کی تقریب کے اپنے پہلے خطاب میں کیا تھا ۔یہ منصوبہ اب دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور گاؤں کے انتخاب کے لیے آخری تاریخ اس سال 31؍جنوری تھی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، دوسرے مرحلے میں مودی کے علاوہ صرف 8 وزراء نے ہی اب تک گاؤں کو گود لیا ہے ۔سشما سوراج، رام ولاس پاسوان، جے پی نڈا، اشوک گج پتی راجو، بیریندر سنگھ، تھاور چند گہلوت، اسمرتی ایرانی اورپرکاش جاوڈیکر گاؤں گود لینے والے وزراء میں شامل ہیں۔دیہی ترقیات کی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق، باقی 18کابینہ وزراء کو اب بھی گاؤں گود لینے ہیں ۔ایس اے جی وائی کے تحت تمام سیاسی پارٹیوں کے ممبران پارلیمنٹ کو گاؤں گود لینا پڑتا ہے، تاکہ ان گاؤں کو مثالی گاؤں میں تبدیل کیا جا سکے اور ان علاقوں میں جسمانی اور ادارہ جاتی بنیادی ڈھانچے کوفروغ دینے کی ذمہ داری لی جا سکے۔لوک سبھا کے 543اور راجیہ سبھا کے 252اراکین پارلیمنٹ سمیت سبھی 795اراکین پارلیمنٹ کو 2019تک تین تین گاؤں کوترقی دینا ہے۔پہلے مرحلے میں 795ممبران پارلیمنٹ میں سے 701نے گاؤں کو گود لیا تھا، جبکہ دوسرے مرحلے میں رائے کمزور رہی اور صرف 102ممبران پارلیمنٹ نے ہی گود لینے کے لیے ایک ایک گاؤں کا انتخاب کیا ہے۔ممبران پارلیمنٹ نے اس منصوبہ کے لیے الگ سے فنڈ نہ ہونے کی شکایت کی ہے۔ایس اے جی وائی کے تحت الگ سے کسی بجٹ کے الاٹمنٹ کی تجویز نہیں ہے، لیکن ممبران پارلیمنٹ سے کہا گیا کہ وہ اپنے چنے گئے گاؤں کے لی فنڈ کا انتظام دیہی رہائش گاہ کے واسطے اندرا رہائشی منصوبہ ، وزیر اعظم دیہی سڑک منصوبہ اور بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ جیسے جاری 21منصوبوں کو کئے جانے والے فنڈ الاٹمنٹ کے ذریعہ کریں ۔ایس اے جی وائی کا مقصد بنیادی طورپر منتخب کئے گئے گاؤں میں سبھی طبقات کے لوگوں کے معیارزندگی اور طریقہ زندگی بہتری کرنا ہے ۔